سیاست
واشنگٹن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی، پاک امریکہ عسکری تعلقات کے نئے باب کی امید
چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پانچ روزہ سرکاری دورے پر اتوار کے روز واشنگٹن پہنچے، جس کا مقصد پاکستان اور امریکہ کے درمیان فوجی و اسٹریٹجک روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ “بنیادی طور پر دوطرفہ نوعیت” کا حامل ہے اور اس کا تعلق بظاہر امریکی فوج کی 250ویں سالگرہ سے نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے ہیڈکوارٹر، ٹمپا (فلوریڈا) میں دو دن گزارے، تاہم پاکستانی سفارت خانے نے اس کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا۔
دورے کے دوران آرمی چیف کی امریکی سیکریٹریز آف ڈیفنس و اسٹیٹ اور سینئر امریکی ملٹری کمانڈرز سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی کے حامیوں نے پاکستانی سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا اور پاکستان میں “غیر مشروط جمہوریت” کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے آرمی چیف کی واشنگٹن میں موجودگی سے احتجاج کو جوڑا۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران آرمی چیف کا امریکہ میں موجود ہونا حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کے مطابق، اس وقت پاکستان اسرائیلی حملوں کی مذمت کر رہا ہے اور ایران سے تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اسرائیل کا قریبی اتحادی اور ایران کا مخالف ہے، اس لیے ملاقاتیں کچھ حد تک “ناخوشگوار گفتگو” کا سبب بن سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی پر تعاون اس دورے کا اہم حصہ ہو سکتا ہے، تاہم اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو نئے زاویے سے متعارف کرانا ایک مشکل کام ہو گا۔
