Connect with us

سیاست

وضاحت ضروری ہے

Published

on

تحریر : شمس مومند

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال ہر گزرتے دن کیساتھ مسلسل خراب ہوتی جارہی ہے۔ گزشتہ رات جنوبی وزیرستان میں ایک ہی حملے میں چودہ جوانوں کی شہادت پوری حکومتی مشینری کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔ سال 2024 جانی نقصانات کے حوالے سے سب سے زیادہ تباہ کن رہا ۔ ایک سال کے دوران اگرچہ مختلف واقعات میں تقریبا ایک ہزار دہشت گردوں کو بھی مارا گیا مگر سیکیورٹی اداروں کے جوانوں کا نقصان بھی کم وبیش 500 کے قریب رہا۔پولیس اور فوجی جوانوں کی بڑے پیمانے پر قربانیاں نتیجہ خیز کیوں نہیں ہورہی ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنے اور وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلا قوم کو یہ بتانا ضروری ہے کہ عمران خان اور جنرل فیض نے جس پالیسی کے تحت سینکڑوں دہشت گردوں کو رہا کروایا اور افغانستان سے واپس آنے میں مدد دی۔دسمبر 2022 میں اس پالیسی کی تبدیلی کے بعد متبادل پالیسی کیا ہے؟ چلو مان لیتے ہیں کہ دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کرنے۔ تو کیا اسکے بعد ریاست نے اپنی پوری قوت کیساتھ دہشت گردوں کے خاتمے اور عوام سمیت جوانوں کی حفاظت کا منصوبہ بنایا ہے؟ کیونکہ اب تک انٹیلی جنس بیس ٹارگیٹیڈ آپریشنز سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کئے جاسکے۔ یا جیسا ہے جہاں ہے کی بنیاد پر قوم کے یہ قیمتی سپوت دہشت گردوں کے رحم وکرم پر ہیں کہ وہ کب اور کہاں حملہ کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ اپنی دفاع میں گولیاں چلائے۔اور جان کی قربانیاں دیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا قبائلی اور جنوبی اضلاع میں تعینات جوانوں کو صرف جان قربان کرنے کی تربیت دی جاتی ہے کیا انکو گوریلا جنگ کے دوران اپنی حفاظت یقینی بنانے اور دشمن کو مارنے کے گر نہیں سکھائے گئے ہیں۔کیونکہ ایک ہی دہشت گرد حملے میں 14 جوانوں کی شہادت کوئی معمولی واقعہ نہیں جس کو آسانی کیساتھ ہضم کیا جاسکے۔ اس پر باقاعدہ انکوائری کرنے کی ضرورت ہے کہ اس علاقے میں رات کے وقت کن ایس او پیز کیساتھ رہنا ہوتا ہے۔ کیا چوکی کے ارد گرد جوان تعینات تھے یا نہیں، کیا اس بڑے حملے کی انٹیلی جنس رپورٹ موجود تھی یا نہیں۔ اگر رپورٹ تھی تو اس کے مطابق کیا تیاری ہوئی تھی اگر رپورٹ نہیں تھی تو کیوں ؟

یہاں سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ امن و امان کا مسئلہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور وہ حکومتی رٹ بحال کرنے کی بجائے احتجاجوں میں مصروف ہیں۔ مگر یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کیا ایسی صورتحال میں جب کوئی بھی صوبائی حکومت اپنی ذمہ داری نہیں نبہا رہی ہو۔ آئین میں ایسی حکومت کے خلاف کونسے اقدامات ممکن ہیں۔ کیا وفاق اور ریاستی ادارے اتنے کمزور ہیں کہ وہ صوبائی حکومت کو امن و امان کی اپنی ذمہ داری نبہانے پر قائل نہیں کر سکتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ایک سال میں 500 اہلکار اور سینکڑوں عوام شہید ہورہے ہیں مگر وفاق کی کارکردگی مذمتی بیانات تک اور صوبائی حکومت کی کارکردگی جرگوں کی تشکیل تک محدود ہے۔ یہاں صوبائی حکومت سے بھی وضاحت مانگنے کی ضرورت ہے کہ اگر کرم، مہمند اور ٹانک سمیت ہر تنازع ، حملے، دہشت گردی اور لڑائی جھگڑے کا حل جرگوں کے ذریعے ہی نکالنا تھا تو پھر وفاقی و صوبائی حکومتوں، سیکیورٹی اداروں، پولیس، عدالت اور انضمام کا فائدہ کیا۔ کیا صوبے میں امن اور حکومتی رٹ بحال کرنے کیلئے سرکاری اداروں کو استعمال کرنے کی بجائے جرگوں کو تقویت دینا قبائلی نظام کو بحال کرنا نہیں؟ کیا آئین میں صوبائی حکومت کاکام جرگے بنانا اور ثالثی کرانا ہے یا مجرموں اور دہشت گردوں کو قانون کے مطابق گرفتار کرانا اور سزا دلانا ہے؟

عوام کو بھی وضاحت کیساتھ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کہ کیا طویل عرصے تک موجودہ غیر یقینی اور مخدوش صورتحال کیساتھ زندگی گزاری جاسکتی ہے۔اگر نہیں تو پھر دو ہی
راستے ہیں یا تو ایک مرتبہ پھر گھربار چھوڑ کر فوج کو بھرپور آپریشن کرنے کی اجازت دی جائے۔کیونکہ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں بھی امن و امان کی بحالی ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے اسکی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ یا پھر منظور پشتین کی رائے کے مطابق خود بندوق اٹھاکر اپنے اپنے علاقوں کی حفاظت کی جائے۔ فیصلہ کیجئے اور وضاحت دیجئے۔ کیونکہ وضاحت ضروری ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *