Connect with us

اہم خبریں

خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات، آلات اور صفائی کی سنگین کمی بے نقاب

Published

on

خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں سنگین بدانتظامی، بنیادی ادویات کی قلت، طبی آلات کی ناکارکردگی، اور صفائی کے ناقص انتظامات کی ہوشربا رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی۔

آزاد ذرائع اور محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق، صوبے کے 32 بڑے ہسپتالوں میں سے صرف 45 فیصد میں 174 ترجیحی ادویات دستیاب ہیں، جبکہ 200 بنیادی ادویات صرف 41 فیصد ہسپتالوں میں ہی میسر ہیں۔ حیران کن طور پر، صرف ایک ہسپتال ایسا ہے جہاں 80 فیصد ادویات موجود تھیں۔

60 اہم طبی آلات میں سے صرف 84 فیصد کارآمد ہیں، اور صرف تین ہسپتال ایسے ہیں جہاں 90 فیصد آلات فعال پائے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 390 ڈاکٹرز مئی 2025 میں غیر حاضر رہے، جن میں سے 228 مسلسل ڈیوٹی سے غائب رہے۔

ہسپتالوں میں صفائی کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ کسی بھی ہسپتال نے 90 فیصد صفائی کا معیار پورا نہیں کیا، جبکہ 12 ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں صفائی کا معیار مزید گر گیا ہے۔ 81 فیصد بیت الخلاء فعال ہیں، جبکہ 8 ہسپتالوں میں یہ شرح بھی 90 فیصد سے کم ہے۔

حکومت نے 1.19 ارب روپے مختص کیے تھے اور 1.21 ارب روپے جاری کیے گئے، لیکن بعض ہسپتالوں—خصوصاً ڈی ایچ کیو مردان اور ہری پور—نے 138 سے 178 فیصد تک فنڈز استعمال کیے، جس سے فنڈز کے غیر مساوی تقسیم کا خطرہ ظاہر ہوا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *