سیاست
ظلم رہے اور امن بھی ہو؟
تحریر : ارم نیاز
“ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں۔ پاکستان ہمارا پڑوسی ملک ہے اس کے حکمران ایک بار پھر خطے میں امن تباہ کرنا چاہتے ہیں” یہ بیان تھا افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا جو انہوں نے پکتیکا میں حالیہ بمباری کے بعد پاکستانی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ادا کیے۔
افغانستان ایک جانب برادر اسلامی ملک پاکستان کو تنبیہہ کرتا دکھائی دیتا ہے جبکہ دوسری جانب خطے میں امن کا توازن بگاڑنے میں مددگار بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بڑھانے کیلئے پرجوش دکھائی دیتا ہے۔
اگست 2021ء میں کابل پر قبضے کے بعد رواں جنوری کابل حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی اور بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مسری کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی پہلی ملاقات ہوئی۔
مذکورہ ملاقات میں افغانستان میں سلامتی کے خدشات، بھارت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں میں شامل ہونے اور انسانی امداد فراہم کرنے کی ضرورت اور افغانستان کی جانب سے ایران میں چاہ بہار بندرگاہ کے استعمال جیسے معاملات موضوع گفتگو رہے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین بگڑتے تعلقات پر بھارت کے سابق خصوصی مندوب اجے بساریہ نے پاکستان پر بلا وجہ اور ناحق تنقید کرتے ہوئے کہا ”یہ سب ان ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہیں جو پاکستان نے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اختیار کی ہیں”
سوال یہ اٹھتا ہے کہ امن کا پرچار کرنے والے بھارت و افغانستان کیا اس حقیقت سے نا آشنا ہیں کہ دونوں ممالک پاکستان کے خلاف صف آرا ہیں اور بذات خود پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنے کے خواہشمند دکھائی دیتے ہیں۔
گزشتہ کئی سالوں سے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے، مزید برآں پاکستان میں دراندازی کی بھی متعدد بار کوششیں کی گئیں۔
سن 2022 میں سرحد پار افغانستان کے اندر سے دہشت گردوں کی جانب سے ضلع کرم میں پاکستانی فوجیوں پر فائرنگ کی جاتی ہے جسکے نتیجے میں لانس نائیک عجب نور، سپاہی ضیاء اللہ خان شہید ہوتے ہیں۔ کیا افغانستان اس حقیقت کا منکر ہو سکتا ہے؟
گزشتہ برس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں حافظ گل بہادر گروپ سے وابستہ مقدمۃ الجیش کاروان کے جنگجو افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ کاٹتے دکھائی دیتا ہے، کیا یہ دراندازی نہیں؟ باڑ کاٹ کر دہشتگردوں کو بارڈر پار کروانا بذات خود سب سے بڑی دہشتگردی ہے۔
گزشتہ۔ رس ہی افغان طالبان کمانڈر ابو حمزہ کی قیادت میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کو بڑی تعداد میں پاکستانی سرحدی علاقے سے ملحقہ افغان صوبے کنڑ کے علاقے دنگام میں اکھٹا ہوتے دیکھا جاتا ہے جنکا مقصد پاکستان میں داخل ہو کر کاروائی کرنا تھا۔ کیا اسکے بعد بھی افغان عبوری حکومت ٹی ٹی پی کی اپنی سرزمین پر موجودگی سے انکار کرے گی؟
فتنۃ الخوراج کا سرغنہ خارجی نور ولی محسود چھپ کر پاکستان میں داخل ہونے کا منصوبہ بناتا ہے جو کہ آشکار ہو جاتا ہے۔ کیا یہ در اندازہ کے ذمرے میں نہیں آتا ؟
فتنہ الخوارج کی افغان سرزمین پر موجودگی سے افغان حکومت انکاری ہے۔ مان بھی لیا جائے کہ ٹی ٹی پی کا افغان سرزمین پر وجود نہیں ہے تو 2022 میں افغانستان کے صوبہ کنڑ میں دھماکے میں زخمی ہونے والا کمانڈر مولوی عبداللہ 2024 میں افغان سرزمین پر کیسے جاں بحق ہوا؟ افغان صوبہ کنڑ میں خارجی شاہد عمر کا قتل ہوا تو افغان سرزمین پر، اسکے علاوہ عمر خالد خراسانی، ابو حمزہ کمانڈر ٹیپو گل، جماعت الاحرار کا سربکف مہمند، کمانڈر سیف اللہ بابو جی اور ملا فضل اللہ جیسے ٹی ٹی پی رہنماؤں کی افغان سرزمین پر ہلاکتیں فتنہ الخوارج کی افغان سرزمین پر موجودگی کا ثبوت ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق فتنہ الخوارج کے اب بھی تین ہزار سے ساڑھے پانچ ہزار فائٹرز موجود ہیں۔ کیا افغان طالبان اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو بھی پس پشت ڈالیں گے؟ پاکستان امن کا خواہاں ہے تو امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ افغانستان اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے اور خطے میں امن کی خاطر دہشتگردوں کی پشت پناہی اور اسلحہ کی فراہمی پر قدغن لگائے۔
