Connect with us

سیاست

پاک افغان تعلقات سرد مہری کا شکار

Published

on

تحریر : ارم نیاز

دنیا کے نقشے پر اس وقت کم و بیش 196 ممالک موجود ہیں۔ ہر ملک اپنی الگ داستان رکھتا ہے۔
انہی ممالک میں شمار دو ملک پاکستان اور افغانستان نا صرف پڑوسی ہیں بلکہ مسلمان ممالک کی فہرست میں بھی شاملِ ہیں۔ دونوں خود کو اسلامی جمہوریہ کہتے اور دونوں ہی جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم کے رکن بھی ہیں۔
ان دو ممالک کا سن کر کتنے ہی ذہنوں میں تصوراتی تصاویر ابھرتی ہیں کہ دو ہمسایہ ممالک جنکا جغرافیہ بھی ایک جیسا ہے اور وہاں بولے جانے والی زبان پشتو بھی مشترکہ ہے، افغانی پلاؤ اگر پاکستان میں مشہور ہے تو پاکستانی بریانی کے چرچے بھی کابل میں ہوتے ہونگے، ایک ملک میں رمضان کی سحری شاندار ہے تو دوسری جانب کا افطار بھی مزیدار ہو گا اور یقینا دونوں ممالک باہم محبت و الفت کی ایک ڈور میں بندھے دکھائی دیتے ہونگے۔ جہاں بارڈر کے اس پار تکلیف ہو تو درد دوسری جانب محسوس ہو، جہاں ایک جانب کا بیمار بارڈر پار ہسپتال سے علاج کرواتا ہو۔ یقیناً اس جیسے کئی خاکے ابھرتے ہونگے۔ لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔
پاک افغان تعلقات میں سرد مہری کا آغاز اسی روز ہو گیا تھا جب نوزائیدہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کی تو افغانستان واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی شمولیت کے خلاف ووٹ دیا۔
پاکستان نے ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے برادر اسلامی ملک کے اس رویے کو درگزر کیا لیکن بات یہیں تک نہ رکی۔ افغانستان کی جانب سے پاک افغان سرحد یعنی ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہ کیا جانا بھی ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا ہے۔ 2670 کلومیٹر طویل ڈیورنڈ لائن بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ بارڈر ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے سابقہ قوم پرست اور تاریخ جمعہ خان صافی نے تصدیق کی ہے کہ یہ بارڈر افغان حکمرانوں کا بنایا ہوا ہے لیکن کچھ شرپسند اسکو نہ ماننے پر ہی بضد ہیں۔
1979 میں جب جنگ نے افغانستان کے دروازے پر دستک دی تو دنیا نے اپنے دروازے افغانستان پر بند کر دیے۔ ایسے میں پاکستان نے نا صرف ہمسایہ ملک بلکہ ایک بھائی ہونے کا فرض نبھایا اور جنگ سے متاثرہ افغان بھائیوں کیلئے اپنے دروازے کھول کر دور مصطفی ﷺ کے انصار و مہاجرین کی یاد تازہ کر دی۔ پاکستان نے اپنے افغان بھائیوں کو ہر وہ حق دیا جو پاکستانی شہریوں کو حاصل رہا لیکن اسکے باوجود بھی پاکستان کو سوتیلی ماں کہا گیا۔
پاکستان کی جانب سے افغان طلباء کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کیلئے ٹاپ یونیورسٹیز میں کوٹے کی بنیاد پر داخلے دیے گئے۔ ایک جانب جب پاکستان ان طلباء کو اسکالرشپس دینے کا اعلان کرتا ہے تو دوسری جانب افغانستان سے آئے دہشتگرد پاکستان کا امن سبوتاژ کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ جب پاکستان کے کرکٹرز کھیل کے میدان میں افغان کرکٹ ٹیم کو ٹریننگ دینے جاتے ہیں تو وہیں کہیں فتنۃ الخوراج کا سرغنہ خارجی نور ولی محسود چھپ کر پاکستان میں داخل ہونے کا منصوبہ بنا رہا ہوتا ہے۔
پاکستان جب علاج معالجے کی غرض سے آئے مریضوں کی دیکھ بھال کرتا ہے تو عین اسی لمحے افغانستان کے صوبہ نورستان سے پاکستان کے علاقے چترال پر حملے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔ کیوں؟ وہ کون سے عناصر ہیں جو ان تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس آگ کو مزید بھڑکاتے ہیں؟؟
افغانستان کی سرزمین پر فتنہ الخوارج کے ٹریننگ کیمپس موجود ہیں جنکے کئی ثبوت پاکستان نے برادر ملک کو دیے لیکن افغانستان کسی ضدی شخص کی مانند حقیقت سے انکار کرتا رہا۔ افغانستان نے نا صرف ہمیشہ اس بات سے انکار کیا کہ اسکی سرزمین سے پاکستان پر دہشتگرد حملے کیے جاتے ہیں بلکہ اپنی سرزمین پر فتنہ الخوارج کی موجودگی کا بھی منکر رہا لیکن افغان صوبہ کنڑ میں خارجی شاہد عمر کے قتل، ابو حمزہ کی پاکستان داخل ہونے کی کوشش, پکتیکا میں محمد اکرام ابابیل کی ہلاکت، کنڑ میں کمانڈر رحیم اللہ، کمانڈر شاہد اللہ باجوڑی سمیت کئی دہشتگردوں کی ہلاکتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ شرپسند و خوارج تنظیمیں افغان سرزمین پر پنپ رہی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو استوار کریں۔ افغانستان کو تمام حقائق اور ثبوت سامنے رکھتے ہوئے ایک ذمہ دار ملک ہونے کا ثبوت دے اور شرپسند عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کرے تاکہ خطے میں امن کا توازن برقرار رہ سکے۔ پاکستان اور افغانستان کے بہتر اور مضبوط تعلقات ہی امن کی فاختہ کو آزادی سے اڑنے کا موقع میسر کر سکتے ہیں ۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *