سیاست
نان نفقہ سے فرار ممکن نہیں، مالی تنگی بھی باپ کی ذمہ داری ختم نہیں کر سکتی: لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ نے نان و نفقہ سے متعلق ایک اہم اور تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مالی تنگی، غربت یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے اختر حسین اعوان نامی شہری کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ نابالغ بچے کا نان نفقہ ایک مسلسل اور جاری رہنے والا حق ہے جسے کسی معاہدے یا سمجھوتے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
کیس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 2007 میں فریقین کے درمیان ایک راضی نامہ طے پایا تھا، جس کے تحت 60 ہزار روپے کی ادائیگی کے بعد آئندہ کسی قسم کے خرچے کا مطالبہ نہ کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اسی بنیاد پر 2019 میں دائر کیا جانے والا نیا دعویٰ قانونی طور پر قابلِ سماعت نہیں تھا۔
تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے معاہدے جو کسی نابالغ بچے کو مستقبل میں اپنے نان نفقے کے حق سے محروم کریں، قانوناً مؤثر نہیں ہوتے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ماضی کے واجبات کے بارے میں سمجھوتہ ممکن ہے، لیکن مستقبل کے نان نفقے کے حق سے دستبرداری نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے واضح کیا کہ خوراک، لباس، رہائش، تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی باپ کی مستقل ذمہ داری ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلے میں لکھا کہ ہر باپ اپنی بیوی اور نابالغ بچوں کی کفالت کا قانونی، اخلاقی اور شرعی طور پر پابند ہے۔
فیصلے میں قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ باپ کسی نجی معاہدے کے ذریعے اس الٰہی فریضے سے دستبردار نہیں ہو سکتا، خصوصاً جب ایسا معاہدہ بچے کی فلاح و بہبود کے خلاف ہو۔
لاہور ہائیکورٹ نے درخواست خارج کرتے ہوئے حکم دیا کہ فیصلے کی نقل لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور وزارتِ قانون و انصاف کو ارسال کی جائے تاکہ نان نفقے سے متعلق قوانین کا اسلامی اصولوں کی روشنی میں جائزہ لیا جا سکے اور ضروری اصلاحات پر غور کیا جا سکے۔
