اہم خبریں
عالمی افق پر جگمگاتا پاکستان کا لٹل تبت
تحریر : ارم نیاز
پاکستان جنوبی ایشیاء کا ایک ایسا گوہر نایاب ہے جس پر دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔۔چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان کی خبروں پر نظر رکھنا دوست و دشمن ممالک کی مجبوری ہے۔
ایک طویل عرصے تک تیسری قوت نے پاکستان کا امن و امان داؤ پر لگائے رکھا۔ دنیا میں پاکستان کو ایک دہشتگرد ملک گردانا جاتا رہا۔ سیاحت کی صنعت معدوم اور کھیلوں کے میدان ویران پڑے تھے۔ پاک مخالف قوتیں مسرور تھیں لیکن پھر ہواؤں کا رخ تبدیل ہوا۔
2025 کی ابتدا شاندار رہی۔ محض دو ماہ میں کئی مثبت اور اچھی خبریں پاکستان کے نام سے منسوب رہیں۔ ایک جانب صوبہ بلوچستان کو ایک الگ شناخت دلانے والی زنیرہ قیوم اور طیبہ کاکڑ نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام بلند کیا تو دوسری جانب باسمتی چاول پر چھڑی پاک بھارت جنگ میں پاکستان فاتح قرار پایا۔ اسی طرح کھیلوں کے میدان دو دہائی بعد کسی بڑے ٹورنامنٹ کیلئے منتخب ہوئے۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد پاکستان میں ہونا ایک نہایت موثر اور طاقتور پیغام تھا دنیا کو کہ پاکستان پرامن ملک ہے۔
اب ایک اور اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان کا خوبصورت سیاحتی مقام گلگت بلتستان دنیا کی 25 بہترین سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے CNN کی تازہ رپورٹ کے مطابق، گلگت بلتستان 2025 میں سیاحت کے لیے “ضرور دیکھنے والی جگہوں” میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
دہشتگردی کو مات دینے اور دنیا میں پاکستان کا نام پرامن ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کیلئے ضروری تھا کہ غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان کی جانب راغب کیا جاتا۔ گزشتہ سالوں میں کئی ایسے اقدامات اٹھائے گئے جنھوں نے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
پاکستان میں سیاحت کو فروغ دیا جا رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قیام امن کے بعد سنہ 2020 میں بروز عید الفطر 27 ہزار سے زائد سیاحوں نے دہشتگردی سے پاک وزیرستان کا رخ کیا.
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عید کے دوسرے دن مکین میں دور دراز سے آنے والے سیاحوں کی 27 ہزار گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئی۔
سن 2023 میں وادئ کالاش میں چومس فیسٹیول کا آغاز ہوا تو تاریخی فیسٹیول کو دیکھنے کے لئے بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے وادی کا رخ کیا۔
2024 میں خیبر پختونخوا پولینڈ سے سیاحوں کو کھینچ لایا.. خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے زیر اہتمام پولینڈ سے پاکستان کے دورے پر آئے ٹوور آپریٹرز کیلئے دورہ پشاور شہر کا اہتمام کیا گیا۔ سیاحوں کو تاریخی مسجد مہابت خان، چوک یادگار، گھنٹہ گھر، سیٹھی ہاؤس، ہیریٹیج ٹریل، گورگٹھڑی آثارقدیمہ، تاریخی تعلیمی ادارے اسلامیہ کالج اور پشاور کا مشہور ٹرک آرٹ لے جایا گیا جہاں انہوں نے عجائب گھر، مندروں، برطانوی دور کے فائر ٹینڈرز کا دورہ کیا اور دیگر قدیم مقامات کی سیرو تفریح کی اور ثقافت دیکھی۔
2024 میں ضلع خیبر کے تاریخی مقامات کی تزین و آرائش کی گئی جس نے کئی غیر ملکی سیاحوں کو اپنی جانب راغب کیا۔ رواں سال میں گلگت بلتستان کا نام دنیا کے افق پر جگمگایا جو یقینا غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان آنے پر مجبور کرے گا۔
عالمی سیاحتی کمپنیاں گلگت بلتستان کو لٹل تبت کا نام دیتی ہیں۔ دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے 5 گلگت بلتستان میں واقع ہیں جس میں کے-ٹو (K2) بھی شامل ہے۔ K2 بلندی کے لحاظ سے دنیا کی دوسری بلند ترین جبکہ خطرناک کوہ پیمائی کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس گلگت بلتستان میں کوہ پیمائی کے شائق 1,700 سے زائد غیر ملکی کوہ پیماؤں نے مختلف چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے اجازت نامے حاصل کیے۔ان میں سے 175 کوہ پیماؤں نے K2 کو سر کرنے کی کوشش بھی کی۔
قدرتی مناظر، دیو قامت پہاڑ، بہتی ندیوں، آبشاروں ، خوشگوار موسم، پرسکون ماحول کا حسین امتزاج ہے گلگت بلتستان ۔
امید ہے پاکستان کا لٹل تبت سیاحوں کیلئے بہترین میزبان ثابت ہو گا۔
