Connect with us

کھیل

شندور پولو فیسٹیول 2026: قومی یکجہتی، ثقافتی ہم آہنگی اور پاکستان کے مثبت تشخص کا شاندار مظاہرہ

Published

on


رپورٹ:عبداللہ شاہ بغدادی

پاکستان کے شمالی علاقوں میں واقع دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور میں منعقد ہونے والا شندور پولو فیسٹیول 2026 اپنی تمام تر رعنائیوں، ثقافتی رنگوں، روایتی جوش و خروش اور شاندار کھیلوں کے مقابلوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ تین روز تک جاری رہنے والے اس بین الاقوامی شہرت یافتہ فیسٹیول نے نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کو بھی اپنی جانب متوجہ رکھا۔

خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی اور پاک فوج کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اس فیسٹیول میں کھیل، ثقافت، موسیقی، سیاحت اور قومی یکجہتی کا حسین امتزاج دیکھنے میں آیا۔ شندور پولو فیسٹیول محض ایک کھیل کا نام نہیں بلکہ یہ پاکستان کی ثقافتی شناخت، تاریخی ورثے اور قدرتی حسن کی نمائندگی کرنے والا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے لوگ ایک دوسرے کی روایات، ثقافت اور طرز زندگی سے آشنا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شندور کو پاکستان کی سیاحتی اور ثقافتی سرگرمیوں میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔

دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ سطح سمندر سے تقریباً بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع شندور دنیا کا بلند ترین قدرتی پولو گراؤنڈ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ مقام خیبر پختونخوا کے ضلع اپر چترال اور گلگت بلتستان کے درمیان واقع ہے۔ شندور کا قدرتی حسن، برف پوش پہاڑ، سرسبز میدان، صاف و شفاف جھیلیں اور دلکش مناظر اسے دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شامل کرتے ہیں۔

ہر سال یہاں منعقد ہونے والا پولو فیسٹیول ہزاروں شائقین کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ ملک بھر سے سیاح، کھیلوں کے شوقین افراد، فوٹوگرافرز، صحافی اور غیر ملکی مہمان اس منفرد تقریب کا حصہ بنتے ہیں۔

قومی جذبے کی عکاس تقریب

شندور پولو فیسٹیول 2026 کا افتتاح گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بطور مہمان خصوصی کیا۔ افتتاحی تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، سیاحتی ماہرین، سیاسی شخصیات، مقامی عمائدین اور ہزاروں شائقین نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ شندور پولو فیسٹیول پاکستان کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ فیسٹیول نہ صرف سیاحت کو فروغ دیتا ہے بلکہ قومی یکجہتی اور بین الصوبائی ہم آہنگی کو بھی مضبوط بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی حسن سے مالا مال ملک ہے اور شندور جیسے مقامات دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے کشش رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سیاحتی شعبے کی ترقی کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے اور شمالی علاقوں میں سیاحوں کیلئے بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

سنسنی خیز پولو مقابلے

فیسٹیول کا سب سے اہم اور دلچسپ حصہ روایتی حریفوں چترال اور گلگت بلتستان کے درمیان ہونے والے پولو مقابلے تھے۔ دونوں ٹیموں نے روایتی فری اسٹائل پولو کے انداز میں شاندار کھیل پیش کیا۔

فائنل میچ میں گلگت بلتستان کی ٹیم نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چترال کی مضبوط ٹیم کو شکست دے دی اور تیرہ سال بعد شندور پولو فیسٹیول کا تاریخی ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔

میچ کے دوران شائقین کا جوش دیدنی تھا۔ میدان تالیوں، نعروں اور خوشی کے نعروں سے گونجتا رہا۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے ثابت کیا کہ شندور پولو صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک تاریخی روایت ہے۔

اختتامی تقریب میں کور کمانڈر پشاور کی شرکت

فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں کور کمانڈر پشاور نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے کامیاب فیسٹیول کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ شندور پولو فیسٹیول قومی یکجہتی، امن، ثقافتی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی علامت بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک جگہ جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام محبت، اتحاد اور امن کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔

وزیر اطلاعات شفیع جان کا اظہار خیال

افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں سیاحت کے فروغ کیلئے عملی اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے شندور فیسٹیول کے کامیاب انعقاد کیلئے تمام ضروری انتظامات مکمل کیے۔ رہائش، سکیورٹی، طبی سہولیات، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات کو بہتر بنایا گیا تاکہ سیاحوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ شندور فیسٹیول پاکستان کا مثبت، پرامن اور خوبصورت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ ہر سال اس فیسٹیول میں بہتری لائی جا رہی ہے اور آئندہ برس اسے مزید شاندار انداز میں منعقد کیا جائے گا۔

ڈی جی محمد شاہد خان کا تفصیلی خطاب

خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل محمد شاہد خان نے اپنے تفصیلی خطاب میں کہا کہ شندور پولو فیسٹیول پاکستان کے ثقافتی اور سیاحتی کیلنڈر کا سب سے اہم ایونٹ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شندور صرف ایک میدان نہیں بلکہ پاکستان کی ثقافتی روح کا مظہر ہے۔ یہاں آنے والا ہر شخص پاکستان کے حسن، ثقافت، روایات اور مہمان نوازی کا سفیر بن کر واپس جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کا مقصد صرف کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد نہیں بلکہ دنیا کو پاکستان کا مثبت تشخص دکھانا بھی ہے۔

محمد شاہد خان نے کہا کہ شندور پولو فیسٹیول تین بنیادی مقاصد کے گرد گھومتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چترال اور گلگت بلتستان کی ثقافتیں پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان ثقافتوں کو محفوظ کرنا اور نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیسٹیول میں شامل مقامی دستکاروں، فنکاروں، موسیقاروں، خواتین کاروباری شخصیات اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا گیا۔

ڈی جی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت سیاحت کو صنعت کا درجہ دینے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ نئے سیاحتی مقامات کی نشاندہی، انفراسٹرکچر کی بہتری، روڈ نیٹ ورک کی توسیع اور بین الاقوامی سطح پر تشہیر کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا:

“ہم چاہتے ہیں کہ شندور فیسٹیول مستقبل میں جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے ثقافتی اور کھیلوں کے ایونٹ کی شکل اختیار کرے۔ ہماری کوشش ہے کہ یہاں مزید بین الاقوامی سیاح آئیں اور پاکستان کے خوبصورت چہرے کو دنیا تک پہنچائیں۔”

ثقافتی سرگرمیاں: رنگوں اور روایات کا حسین امتزاج

شندور پولو فیسٹیول کی ایک بڑی خاصیت اس کی رنگا رنگ ثقافتی سرگرمیاں ہیں۔ افتتاحی تقریب میں سکول کے بچوں نے قومی یکجہتی، امن، ترقی اور پاکستان کے خوبصورت مستقبل پر مبنی شاندار ٹیبلوز پیش کیے۔

چترال کے مردوں اور خواتین نے روایتی چترالی رقص پیش کیا جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ رنگ برنگے روایتی لباس، مقامی موسیقی اور خوبصورت انداز نے ماحول کو مسحور کن بنا دیا۔

اس کے علاوہ مقامی گلوکاروں اور فنکاروں نے روایتی گیت پیش کیے جن میں چترالی، کھوار، شینا اور دیگر علاقائی زبانوں کے نغمے شامل تھے۔

ثقافتی پروگراموں میں روایتی لباسوں کی نمائش، دستکاریوں کے سٹال، مقامی کھانوں کے مراکز، لوک موسیقی، بانسری، رباب اور دیگر روایتی سازوں کی دھنیں خصوصی توجہ کا مرکز رہیں۔

پیرا گلائڈنگ اور ایڈونچر سرگرمیاں

فیسٹیول کے دوران پیرا گلائڈنگ کے شاندار مظاہرے بھی پیش کیے گئے۔ بلند پہاڑوں کے درمیان فضا میں اڑتے پیرا گلائیڈرز نے شائقین کو حیران کر دیا۔ حاضرین نے ان مظاہروں کو بھرپور انداز میں سراہا۔

ایڈونچر سپورٹس سے دلچسپی رکھنے والے افراد کیلئے یہ سرگرمیاں خصوصی کشش کا باعث بنیں۔

سیاحت کیلئے سنہری موقع

شندور پولو فیسٹیول صرف کھیلوں کا میلہ نہیں بلکہ سیاحتی سرگرمیوں کا بھی مرکز ہوتا ہے۔ سیاح یہاں کیمپنگ کرتے ہیں، ٹراوٹ مچھلی کا شکار کرتے ہیں، پہاڑوں پر چڑھائی کرتے ہیں، گھڑ سواری سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور قدرتی حسن سے بھرپور مناظر سے محظوظ ہوتے ہیں۔

شندور کے اردگرد واقع جھیلیں، دریا، وادیاں اور برف پوش پہاڑ سیاحوں کیلئے جنت کا منظر پیش کرتے ہیں۔

مقامی معیشت پر مثبت اثرات

فیسٹیول کے دوران مقامی آبادی کو روزگار کے وسیع مواقع میسر آتے ہیں۔ ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، ٹرانسپورٹ، دستکاریوں، خوراک اور دیگر کاروباری شعبوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

مقامی دکاندار، ہنرمند، خواتین کاروباری شخصیات اور نوجوان اس فیسٹیول سے براہ راست معاشی فوائد حاصل کرتے ہیں۔

امن اور محبت کا پیغام

شندور پولو فیسٹیول اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان ایک پرامن، خوبصورت اور ثقافتی اعتبار سے مالا مال ملک ہے۔ یہ فیسٹیول مختلف ثقافتوں، زبانوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے اور محبت، بھائی چارے اور اتحاد کا پیغام دیتا ہے۔

شندور پولو فیسٹیول 2026 کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا، لیکن اس کی یادیں طویل عرصے تک شائقین کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔

دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ میں منعقد ہونے والا یہ عظیم الشان میلہ نہ صرف کھیلوں کے فروغ کا ذریعہ بنا بلکہ اس نے پاکستان کی ثقافتی عظمت، قدرتی حسن اور قومی یکجہتی کو بھی اجاگر کیا۔

گلگت بلتستان کی تاریخی فتح، چترال کی شاندار کارکردگی، ثقافتی پروگراموں کی رنگا رنگی، پیرا گلائڈنگ کے دلکش مظاہرے، مقامی موسیقی، لوک رقص، سیاحتی سرگرمیاں اور قومی یکجہتی کا جذبہ اس فیسٹیول کی نمایاں خصوصیات رہیں۔

شندور پولو فیسٹیول آنے والے برسوں میں بھی پاکستان کے ثقافتی اور سیاحتی افق پر ایک روشن ستارے کی مانند چمکتا رہے گا اور دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا رہے گا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *