موسم اور ماحول
ملک بھر میں گرمی کی شدت برقرار، سپر ال نینو کے باعث مزید خطرات کا خدشہ
پاکستان کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے جہاں سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے دادو، سکھر اور جیکب آباد میں درجہ حرارت 45 ڈگری سے زائد ریکارڈ کیا گیا جبکہ لاڑکانہ میں 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
پنجاب کے لاہور، فیصل آباد، رحیم یار خان اور ساہیوال میں درجہ حرارت 41 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اسلام آباد اور پشاور میں 36 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ کراچی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں سندھ میں خشک موسم اور درجہ حرارت میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ اپریل کے آخر تک ہیٹ ویو کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سپر ال نینو کے باعث عالمی موسمی نظام متاثر ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان میں مون سون کے پیٹرن میں تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافہ اور طوفانی نظام میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے نائب ڈائریکٹر انجم ظہیر کے مطابق آنے والے موسم گرما میں ال نینو کا امکان ہے جو اگست اور ستمبر کے دوران شدت اختیار کر کے سپر ال نینو بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورت میں مون سون بارشیں متاثر ہو سکتی ہیں اور 2027 دنیا کے گرم ترین سالوں میں شامل ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ موسمیات نے بھی خبردار کیا ہے کہ مئی سے جولائی کے دوران ال نینو کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو سکتے ہیں، جس سے دنیا بھر میں شدید موسمی تبدیلیوں کا خدشہ ہے۔
