صحت
کینسر کے علاج کے دوران مصنوعی مٹھاس نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، تحقیق
حالیہ تحقیق نے کینسر کے مریضوں اور ماہرین صحت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جریدہ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس — جو عام طور پر ڈائٹ سوڈا اور شوگر فری اشیاء میں استعمال ہوتی ہے — کینسر کے امیونوتھراپی علاج کو کم مؤثر بنا سکتی ہے۔
تحقیق کی قیادت کرنے والی پروفیسر ایبی اووراکر اور ان کی ٹیم نے چوہوں پر کیے گئے تجربات میں پایا کہ جن جانوروں کو مصنوعی مٹھاس دی گئی، ان میں امیونوتھراپی کا ردعمل کمزور تھا۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ تحقیق میں ایک ممکنہ حل بھی پیش کیا گیا ہے: ارجینائن نامی امینو ایسڈ کا سپلیمنٹ۔ جب چوہوں کو ارجینائن دیا گیا تو امیونوتھراپی کا اثر بہتر ہو گیا۔
اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور انسانوں پر اس کے اثرات جانچنا باقی ہیں، لیکن یہ بات اہم ہے کہ کینسر کے مریض اپنی غذا کے بارے میں ہوشیار رہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مریض اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں تاکہ ان کی غذا میں بہتر انتخاب شامل کیا جا سکے۔
محققین پر امید ہیں کہ ارجینائن سپلیمنٹ ایک محفوظ اور عملی حل کے طور پر جلد متعارف کرایا جا سکے گا۔
