صحت
غزہ میں بھوک، خون کی قلت اور بمباری سے صحت کا نظام تباہ
اسرائیلی محاصرے کے نتیجے میں غزہ کا نظامِ صحت مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر ہے۔ مسلسل بمباری، ایندھن اور ادویات کی کمی، اور شدید غذائی قلت نے اسپتالوں کو مفلوج کر دیا ہے۔
الشفاء اسپتال کے مطابق خون کے عطیات دینے والے بیشتر افراد اتنے کمزور ہیں کہ خون دینے کے فوراً بعد بے ہوش ہو جاتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی جان خطرے میں پڑتی ہے بلکہ خون کی ایک قیمتی بوتل بھی ضائع ہو جاتی ہے۔
شیخ رضوان ہیلتھ سینٹر پر حملے میں درجنوں افراد شہید ہو گئے، جبکہ کئی دیگر اسپتال بھی تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔ محصور فلسطینی خوراک کے لیے نکلتے ہیں تو ان پر گولیاں چلتی ہیں — صرف گزشتہ روز 18 امداد کے متلاشی افراد کو اسرائیلی فوج نے شہید کر دیا۔
اب تک 61 ہزار سے زائد فلسطینی، جن میں 18 ہزار بچے شامل ہیں، شہید ہو چکے ہیں۔ فاقہ کشی، بمباری، اور انسانی بحران نے غزہ کو جہنم میں تبدیل کر دیا ہے۔ دنیا خاموش ہے — اور فلسطین تنہا۔
