موسم اور ماحول
عالمی موسمیاتی سیاست کا نیا موڑ، ترکیہ اور آسٹریلیا کا بڑا امتحان
تحریر: سلمان ناصر خان
تصور کریں دنیا کی سب سے بڑی موسمیاتی کانفرنس کوپ اکتیس اب تک کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسی ہو رہی ہے جہاں ہوسٹ اور صدارت دو مختلف ممالک کے درمیان تقسیم ہو گئی ہے۔ ترکیہ، صوبہ انطالیہ میں، اس کانفرنس کی سرزمین اور ہزاروں وفود کی میزبانی سنبھالے گا، جبکہ آسٹریلیا مذاکرات کی صدارت کرے گا۔ یعنی ترکیہ جگہ اور ہال دے گا اور آسٹریلیا کے موسمیاتی وزیر کرس بوون صدارت کے چیئر پر بیٹھ کر عالمی معاہدوں کی سمت طے کریں گے۔
یہ صرف انتظامی سمجھوتہ نہیں، بلکہ ایک اشارہ ہے کہ دنیا اب صرف ایونٹ پر خرچ کرنے پر نہیں، بلکہ نتائج پر توجہ دے رہی ہے۔ کوپ، اقوام متحدہ کے موسمیاتی فریم ورک کا سب سے اونچا فیصلہ ساز ادارہ ہے، جہاں 197 ممالک اخراج کے اہداف، موافقت کی پالیسیاں، اور موسمیاتی مالیات پر روزانہ نئے سودوں کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ترکیہ کی میزبانی کا انتخاب آسٹریلیا کے ساتھ اُٹھی مشترکہ امیدواری کے عمل کے بعد ہوا، جب برازیل بیلیم میں کوپ اکتیس کی جنرل اسمبلی نے فیصلہ کیا کہ آگے کوپ اکتیس ترکیہ میں ہوگی۔ ترکیہ کے لیے یہ ایک بہت بڑا سفارتی اور اقتصادی موقع ہے، جبکہ آسٹریلیا کو “مذاکراتی صدارت” کے ذریعے اپنا موسمیاتی نیٹ ورک اور اثر کو بحال کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ تاہم، ماحولیاتی تنظیمیں جیسے گرین پیس اور آکسفیم آسٹریلیا واضح کہہ رہی ہیں کہ صرف زبانی کلامی کافی نہیں۔
آسٹریلیا کو اپنے اندر سے کوئلہ اور گیس کے منصوبوں پر پابندی لگا کر، اور فوسل فیول ایکسپورٹس کو مرحلہ وار ختم کر کے اپنی ذمہ داری کو عمل میں لانا ہوگا۔ تووالو، فجی، کیریباتی، سلومن جزائر اور اسی طرح کے چھوٹے جزائر کے لیے موسمیاتی تبدیلی کوئی دور کی کتابی بحث نہیں، بلکہ روزانہ کی بقا کی جنگ ہے۔
ان جزائر کو عالمی کاربن میں تقریباً صفر حصہ ڈالتا ہے، مگر سمندر کی سطح میں اضافہ، طوفانوں کی شدت، اور ریف کے سفید ہونے کا سب سے زیادہ خمیازہ انہیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق، چھوٹے جزائر کی معیشتیں تیل، گیس اور گندم کی درآمدات پر انتہائی منحصر ہیں، جس کی وجہ سے جب تیل اور کھاد کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو ان کی بنیادی سروسیں، جیسے ہسپتال، تعلیم، اور پانی، فوری طور پر دباؤ میں آ جاتی ہے۔
آسٹریلیا نے پیسفک کوپ کا نعرہ لگا کر یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ بحرالکاہل کے ممالک کی آواز کو کوپ اکتیس کی قیادت میں فیصلہ کن قوت دے گا۔ اس کے تحت آسٹریلیا کو اس خطے کے ممالک کے لیے ایک نیا اور واضح اہداف پر مبنی موسمیاتی مالیاتی فریم ورک بنانا ہوگا، جس میں امداد، قرض، اور نقصان و تباہی کی فنڈنگ شامل ہوں۔ لیکن ساتھ ہی، آسٹریلیا کو ایک بڑا اعتراض کا سامنا ہے: وہ دنیا کا تیسرے نمبر پر بڑا فوسل فیول ایکسپورٹر ہے، اور اپنے اخراجات بھی بہت زیادہ ہیں۔ اگر وہ جب تک کوئلہ اور گیس کے نئے منصوبوں کو منظوری دینا بند نہ کرے، تو اس کی موسمیاتی رہنمائی کا ایماندارانہ تاثر کبھی نہیں بنتا۔
ماہرین جیسے میلبورن یونیورسٹی کے موسمیاتی محقق کرسٹیان ڈی بیوکلیر کہتے ہیں کہ آسٹریلیا کے لیے اب ایک سادہ راستہ ہے: اگر وہ اپنے اندر سے فوسل فیول کی آزادی کا پلان دے، اور اپنے خطے کے ممالک کے لیے نئی اور قابلِ اعتبار مالیاتی ضمانت دے سکے، تو کوپ اکتیس اس کی سفارتی اور اخلاقی جیت بن سکتی ہے۔
ان کی یہی بات ہے کہ آسٹریلیا نے اگر اپنے ملک میں نئے کوئلہ اور گیس کے منصوبوں کو بند کر دیا، اور ایک واضح اور منظم منصوبے کے ذریعے ان فیولز کو ختم کر دیا، تو دنیا کو ایک ایسا ماڈل یاد رکھے گی جہاں ایک مغربی امیر ملک نے اپنے مفادات کو موسمیاتی منافع کے لیے قربان کیا۔ آکسفیم آسٹریلیا اور دیگر تنظیمیں واضح کہہ رہی ہیں کہ آسٹریلیا کو بحرالکاہل کے ممالک کے ساتھ “انصاف پر مبنی شراکت” کی طرف جانا ہوگا یعنی صرف اپنی شرائط لگانے کے بجائے، اسی طرح، ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کہتا ہے کہ کوپ اکتیس کا سودا اس وقت ہی کامیاب ہوگا جب وہ ان لوگوں کے لیے “انصاف” لائے، جو موسمیاتی بحران کی وہ سامنے والی لکیر پر کھڑے ہیں۔
کوپ 31 کا یہ نیا فارمولا ترکیہ کی زمین اور آسٹریلیا کی صدارت کسی حد تک ایک تجربہ ہے۔ اگر آسٹریلیا اپنی صدارت کے دوران فوسل فیول فیز آؤٹ، انصاف پر مبنی مالیات، اور نقصان و تباہی کے واضح میکانزم کو آگے بڑھا پاتا ہے، تو یہ نہ صرف اس کی سفارتی جیت ہوگی، بلکہ بحرالکاہل کے جزائر کے لیے ایک نئی باری امید بھی ورنہ، بحرالکاہل کے چھوٹے جزائر کی نظریں آسٹریلیا پر ہیں، اور ان کا سوال بہت سیدھا ہے: کیا آسٹریلیا واقعی ان کا وکیل بنے گا، یا صرف اپنی گرین تصویر دھو کر دنیا کو دکھانے تک محدود رہ جائے گا؟ وقت کے ساتھ ہی یہ جواب بھی لکھا جائے گا۔
