Connect with us

کھیل

گالف کے میدان پر راج کرنے والی کم عمر ترین گالفر حمنا امجد

Published

on

ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات. اس کو آسان اردو میں گر سمجھنا ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ ہونہار بچے کے جوہر بھی شروع میں ہی ظاہر ہو جاتے ہیں۔ یہ کہاوت پشاور سے تعلق رکھنے والی انٹرنیشنل گالفر حمنا امجد پر صادق آتی ہے۔

خیبرپختونخوا کو عموما فرسودہ روایات اور سخت رسم و رواج میں جکڑا صوبہ تصور کیا جاتا رہا ہے، جہاں بیٹیوں کو کھیلوں کے میدانوں سے تو کیا تعلیم کے میدان میں بھی آگے بڑھنے نہیں دیا جاتا تھا لیکن حمنا امجد نے ان تمام تصورات کو مٹاتے ہوئے ثابت کیا کہ خیبر کی بیٹیاں نا صرف تعلیم کے میدان میں جھنڈے گاڑ رہی ہیں بلکہ کھیلوں کے میدانوں میں بھی اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔ پشاور میں پانچ مارچ 2004 کو جنم لینے والی حمنا امجد کا تعلق تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے جہاں بچیوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینے کا رواج ہے۔
حمنا کے والد امجد اعوان کا تعلق خود ائیر فورس سے ہے۔ انہوں نے کم سن بیٹی میں چھپی کھلاڑی کو بہت جلد پہچان لیا تھا۔ جیکب آباد میں گالف کے ایک پریکٹس ایریا میں حمنا اپنے والد کے ہمراہ گئیں اور گالف کی ایک ہی ہٹ نے انکے والد کو محسوس کروایا کہ انکی بیٹی آنے والے دنوں میں ملک کا نام بین الاقوامی سطح پر روشن کر سکنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ یہ والد ہی تھے جنکی بھرپور سپورٹ نے حمنا کی صلاحیتوں کو نکھارا اور اسکے حوصلے کو بلند کیا، یہاں سے حمنا کا گالف کا سفر شروع ہوا۔

کم عمری ہی میں حمنا کے حاصل کیے گئے اعزازت کی ایک طویل فہرست ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ گالف پریکٹس کرنا، ملکی و غیر ملکی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنا یقیناً کسی خواب سے کم نہیں۔ یہ کامیابیاں ہر کسی کے مقدر میں نہیں آتیں سوائے ان کے جو انتھک محنت کریں۔
حمنا نے انٹرویو کے دوران درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے اقرار کیا کہ پڑھائی اور کھیل کو ساتھ ساتھ جاری رکھنا دشوار کام ہے۔ حمنا کے مطابق وہ اکثر کسی میچ کیلئے جب پریکٹس کرتیں تھیں تو انکو چھٹی ملنا مشکل ہوتا تھا۔ جتنی پریکٹس ہو گی اتنا ہی آپ اپنے کھیل میں مہارت حاصل کرو گے لہٰذا حمنا اسکول سے واپس آنے کے فورا بعد پریکٹس کیلئے جاتی تھیں۔
بقول حمنا ” کیرئیر کے شروعات میں تعلیم اور کھیل کو لیکر آپکو اپنی لائف کو توازن میں رکھنا پڑتا ہے لیکن جب آپ کسی ایک چیز کیلئے سیریس ہیں تو دوسری لازماً متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے کئی بار مجھے اپنے کسی میچ کی خاطر اپنی کلاسز چھوڑنی پڑتی تھیں کیونکہ مقصد پاکستان کی نمائندگی کرنا اور گالف کی دنیا میں اپنا نام بنانا تھا.”

انتھک محنت اور لگن نے ننھی حمنا کو محض 14 سال کی عمر میں پاکستان کی کم عمر ترین نیشنل چمپیئن کی سیڑھی پر کھڑا کر دیا۔ اسکے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ حمنا امجد تین مرتبہ نیشنل چمپیئن شپ فاتح رہی ہیں۔
2018 میں حمنا امجد نے نیشنل گیمز میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ آپ پہلی پاکستانی خاتون گالفر ہیں جنھوں نے مسلسل آٹھ مرتبہ فالڈو سیریز کیلئے کوالیفائی کیا۔ مزید برآں حمنا امجد ورلڈ ایمیچر گالف رینکنگ میں شامل ہونے والی اور ایشین پیسیفک گالف چمپئین شپ کھیلنے والی پہلی پاکستانی خاتون گالفر ہیں۔
اسی طرح حمنا امجد پہلی پاکستانی خاتون گالفر ہیں جنکو یورپین ٹور کی جانب سے ریمکو سیریز میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ یوں انہوں نے سعودی عرب میں ایل پی جی گالف ٹور میں پاکستان کی نمائندگی کی.
گزشتہ روز ورلڈ ایمیچور گالف رینکنگ کیٹیگری میں حمنا امجد نے مسلسل چوتھی بار سونی ولی کپ جیت کر ایک اور کامیابی اپنے نام کی۔ انہوں نے 54 ہولز میں مجموعی طور پر 231 اسکور کے ساتھ عالمی رینکنگ میں 160 واں جبکہ پاکستان میں دوسرا مقام حاصل کیا۔ یاد رہے حمنا امجد پاکستان آرمی کی گالف ٹیم کا بھی حصہ ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر حمنا کئی ممالک میں منعقد ہونے والے مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل کر چکی ہیں جن میں ویتنام، مصر، تھائی لینڈ، جاپان، بنگلہ دیش ، سنگاپور اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ مصر میں ہونے والے مقابلے میں حمنا رنر اپ رہیں۔

خواتین کے نام اپنے پیغام میں حمنا کا کہنا تھا کہ ” خواتین کسی طور خود کو کسی سے کم نہ سمجھیں اور کھیلوں کے میدان میں اتریں کیونکہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی خواتین کی تعداد انتہائی کم ہے. کھیلوں میں حصہ لیکر ہی آپ خود کو فٹ اور ایکٹوو رکھ سکتی ہیں”۔
سنت نبوی کی پیروی کرتے ہوئے حمنا امجد نے رواں سال پروفیشنل گالفر سید رضا علی کو بطور شریک حیات چنا اور لاہور میں منعقدہ تقریب میں نکاح جیسے مقدس بندھن میں بندھ گئیں۔ شادی شدہ زندگی اور گالف جیسے کھیل کے درمیان توازن کیسے رکھا جاتا ہے، اس بارے میں حمنا کا کہنا تھا کہ “چونکہ میرے شوہر بھی پروفیشنل گالفر ہیں اسلیے ان سمیت میرے سسرال والے بھی مجھے انڈر سٹینڈ کرتے ہیں۔ لہذا مجھے اپنی زندگی اور کھیل دونوں کو بیلنس رکھنے میں کوئی دشواری نہیں پیش آتی”۔

قوم تب مضبوط ہوتی ہے جب بیٹیاں مضبوط ہو۔ حمنا امجد ان خوش قسمت بیٹیوں میں شمار ہیں جن کو اپنے والدین اور شوہر کی مکمل حمایت اور تعاون حاصل ہے۔ قوم پاکستان کی اس قابل فخر بیٹی کی مزید کامیابیوں کیلئے دعاگو ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *