سیاست
پاکستان کا افغان طالبان کیلئے سخت پیغام: اعتماد ممکن نہیں، ریاست کی طرح فیصلے کریں
وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے بارے میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان رجیم سے کسی بھی قسم کی اچھائی کی امید رکھنا ایک بڑی حماقت ہے۔ جیو نیوز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ طالبان ایک مفاد پرست گروہ ہے جس کا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے عالمی دوست خطے میں امن چاہتے ہیں اور جلد مداخلت کریں گے جس کے بعد طالبان تنہا رہ جائیں گے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کی فیکٹری ختم ہوگی تو حلال روزی کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے طالبان کے مذہبی دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کون سا معاشرہ اپنے میزبان ملک میں خونریزی اور تباہی برپا کرتا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ ہماری فورسز انتہائی ڈسپلنڈ ہیں جبکہ طالبان کے ہاں کوئی نظم نہیں۔
اسی دوران ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت کو ریاست کی طرح فیصلے کرنے چاہئیں، نہ کہ نان اسٹیٹ ایکٹر کی طرح۔ انہوں نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر فوری پابندی کا مطالبہ کیا جنہیں کئی دہشت گردی کے واقعات میں استعمال کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف ہے، افغان عوام کے خلاف نہیں۔ ریاست میں گڈ اور بیڈ طالبان کا کوئی تصور نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا اور جب بھی کارروائی کرتا ہے تو اعلانیہ کرتا ہے۔ افغان رجیم دہشتگردوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرے، اور ایسی کارروائی کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
