Connect with us

سیاست

چین کی شمسی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ، عالمی توانائی کا رخ تبدیل ہونے لگا

Published

on

توانائی کے عالمی تحقیقی ادارے ایمبر کی تازہ رپورٹ کے مطابق مارچ ۲۰۲۶ میں چین کی شمسی برآمدات نے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ برآمدات گزشتہ مہینے کے مقابلے میں دگنی ہو گئی ہیں، جو اس شعبے میں تیز رفتار ترقی کو ظاہر کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ۶۸ گیگا واٹ شمسی ٹیکنالوجی کی برآمدات دراصل ہسپانیہ کی مجموعی شمسی صلاحیت کے برابر ہیں، جبکہ یہ اگست ۲۰۲۵ کے پچھلے ریکارڈ سے پچاس فیصد زیادہ ہیں۔

مارچ ۲۰۲۶ میں پچاس ممالک نے چینی شمسی مصنوعات کی درآمد کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ ان میں ایشیا اور افریقا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ بھارت، نائجیریا، کینیا، جاپان، آسٹریلیا، یورپی اتحاد اور آسیان ممالک میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

چینی کسٹمز کے اعداد و شمار پر مبنی تجزیے سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے دنیا کو متبادل توانائی کی طرف تیزی سے مائل کیا ہے۔

ادارے کے سینئر تجزیہ کار ایوان گراہم کے مطابق روایتی ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں شمسی صنعت کو مزید فروغ دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق شمسی توانائی پہلے ہی عالمی معیشت کا ایک اہم ستون بن چکی ہے اور موجودہ حالات اسے مزید تیز ترقی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی بجلی جائزہ ۲۰۲۶ کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ میں شمسی توانائی کی ریکارڈ پیداوار نے گیس سے پیدا ہونے والی بجلی میں نمایاں کمی کی، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی مائع قدرتی گیس کی برآمدات کے برابر ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *