سیاست
امداد کی بندش سے نائجیریا میں غذائی بحران، بچے بھوک سے مرنے لگے
نائجیریا کے شورش زدہ علاقے بورنو میں ایک عارضی چھپر کے نیچے، یگانا بولاما اپنے زندہ بچے کو گود میں لیے بیٹھی ہیں۔ دوسرے جڑواں کی موت ہو چکی ہے—وہ بھی بھوک کی وجہ سے۔
یگانا اور تقریباً چار لاکھ دیگر افراد جو میں مقیم ہیں، بین الاقوامی امداد پر انحصار کرتے تھے۔ تاہم یو ایس ایڈ کی غیرمعمولی کٹوتیوں کی وجہ سے اب خوراک، پناہ، اور طبی سہولیات میسر نہیں رہیں۔
بورنو میں فوج نے عام لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے لوگ کھیتی باڑی بھی نہیں کر سکتے۔ Mercy Corps جیسے ادارے، جو پہلے بچوں کو غذائیت بخش پیسٹ فراہم کرتے تھے، اب فنڈز نہ ہونے کے باعث اپنی خدمات بند کر چکے ہیں۔
یگانا، جس کے پہلے تین بچے بھی بھوک سے مر چکے تھے، نے بتایا کہ جب اس نے اگست میں جڑواں بچوں کو جنم دیا، دونوں شدید کمزور تھے۔ لیکن Mercy Corps کا پروگرام بند ہونے کے دو ہفتے بعد اس کا ایک بچہ جان کی بازی ہار گیا۔
یونیسیف کی محدود گنجائش، اور دیگر اداروں کی کمی، صورتحال کو سنگین بنا رہی ہے۔ کے پاس اب بھی نائجیریا میں صرف ایک مرکز فعال ہے جہاں روزانہ کم از کم 10 نئے بچے شدید غذائی قلت کے ساتھ داخل کیے جاتے ہیں۔
انسانی بحران نہ صرف بچوں کی صحت بلکہ رہائش، تعلیم اور سکیورٹی پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔ بے یار و مددگار افراد کے پاس اب یا تو بھوک سے مرنے یا خطرناک گروہوں میں شامل ہونے کا انتخاب باقی بچا ہے۔
یہ بحران صرف نائجیریا تک محدود نہیں۔ صومالیہ، سوڈان، موزمبیق جیسے کئی دیگر ممالک میں بھی یو ایس ایڈ کی فنڈنگ کی بندش سے لاکھوں افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ عالمی برادری کو فوری ایکشن لینے کی ضرورت ہے تاکہ مزید جانیں ضائع ہونے سے بچائی جا سکیں۔
