Connect with us

سیاست

غزہ میں امن کے خواب کی حقیقت

Published

on

تحریر : علی آفریدی

غزہ میں امن کا قیام ایک پیچیدہ اور مشکل مسئلہ ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ تو ہوا ہے، لیکن بے یقینی کی فضا بدستور قائم ہے۔ معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ شروع ہو چکا ہے، تاہم اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے واضح کر دیا ہے کہ یہ جنگ بندی عارضی ہے۔ اگر مطلوبہ نتائج نہ ملے تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

ابتدا سے ہی اسرائیل اور امریکا جنگ بندی کے مخالف رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس سے صرف حماس کو فائدہ پہنچے گا۔ اقوام متحدہ میں پیش کی گئی قراردادوں کو امریکا نے بار بار ویٹو کیا، جو اس کی روایتی اسرائیل نواز پالیسی کا حصہ لگتا ہے۔ جنگ بندی کے بجائے واشنگٹن نے عارضی وقفوں کی حمایت کی، تاکہ یرغمالیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

اسرائیل کا ماضی یہی دکھاتا ہے کہ وہ ایسے معاہدے توڑنے میں ماہر ہے اور اس کے بعد اس کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔ نیتن یاہو کا بار بار حماس کے خاتمے پر زور دینا اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی فائدے کے لیے دوبارہ جنگ چھیڑ سکتے ہیں۔ ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد حماس کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اپنے اقتدار کو بچانا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔ امریکا اور مغربی ممالک ہمیشہ اسرائیل کے حامی رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر ادارے اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات میں ناکام رہے ہیں۔ امریکا سے اسرائیل کو نہ صرف مالی بلکہ عسکری امداد بھی فراہم کی جاتی رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، جنگ کے پہلے سال میں امریکا نے اسرائیل کو تقریباً 18 ارب ڈالرز کی امداد فراہم کی۔

غزہ کے عوام گزشتہ 17 سال سے محاصرے کا شکار ہیں۔ ان کے حالات روز بروز بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہودی بستیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور فلسطینیوں کو زبردستی ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل “گریٹر اسرائیل” کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، جو مشرق وسطیٰ کے وسائل پر قبضے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکا اور یورپ میں نوجوان نسل نے اسرائیل کے خلاف احتجاج کرکے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ یہ مظاہرے تاریخ ساز تھے کیونکہ نوجوان موجودہ نظام سے مایوس ہو کر ایک متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ تاہم، مغربی سیاستدان اور میڈیا اسرائیل کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

غزہ میں پائیدار امن تبھی ممکن ہوگا جب تنازع کی جڑوں کو ختم کیا جائے۔ اسرائیل کو فوری طور پر غزہ کا محاصرہ ختم کرنا ہوگا، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ہوگا، اور سب کے مساوی حقوق کو یقینی بنانا ہوگا۔ جنگی جرائم اور مظالم کے خلاف انصاف فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

آج کی دنیا میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ عالمی قوانین اور ادارے اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔ جب تک نسل پرستی اور طاقت کے غلط استعمال کو ختم نہیں کیا جائے گا، امن کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ انصاف، مساوات، اور انسانی حقوق کا احترام ہی ایک بہتر مستقبل کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *