Connect with us

سیاست

پارہ چنار ۔ جرگہ کامیاب مگر حکومت ناکام

Published

on

تحریر : شمس مومند

ضلع کرم کے مختلف علاقوں میں تین مہینے کی مسلسل کشت و خون کے بعد جرگے کی کوششیں رنگ لے آئی اور طویل گفت و شنید اور درجنوں نشستوں کے بعد باقاعدہ امن معاہدہ طے پاگیا۔ اگرچہ اس جرگے کی کامیابی صوبائی حکومت اپنے کھاتے میں ڈال رہی ہے۔ مگر قانونی، سیاسی و صحافتی ماہرین جانتے ہیں کہ جرگوں اور معاہدوں کے ذریعے امن کا قیام دراصل حکومت کی ناکامی ہے۔

مقامی لوگ اور حکومت کے حامی مجھ پر لعن طعن بھی کرسکتے ہیں کہ تین مہینے کی تباہی اور مشکلات پر قابو پالیا گیا مگر میں اسے حکومتی ناکامی سمجھتا ہوں جو زیادتی ہے مگر ایک صحافی، انضمام کے حامی اور ایف سی آر کے مخالف کی حیثیت سے میں اس قسم کے جرگوں کے ذریعے امن کے قیام کو مسئلے کا حل اور مرض کا علاج نہیں سمجھتا، اگر جرگوں کے ذریعے ہی مسائل کا حل نکالنا تھا تو پھر فاٹا انضمام کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ طاقتور اور خود مختار جرگے تو ایف سی آر میں ہوا کرتے تھے۔ اگر تمام جرائم اور تنازعات پر مٹی ڈال کرجرگوں کے ذریعے ہی معاہدے کرکے راستے کھلوانے تھے تو پھر پولیس ، ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کا کیا کام باقی رہ گیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا اکیسویں صدی کے کسی اور جمہوری ملک میں بھی غیر قانونی لڑائی جھگڑوں کا حل جرگوں کے ذریعے نکالنے کی نظیر موجود ہے؟

کیا کسی بھی مہذب اور جمہوری ملک میں 200 افراد کے قتل پر مٹی ڈالی جاسکتی ہے۔ یعنی نہ کوئی گرفتاری ہوگی، نہ کوئی تفتیش ہوگی، نہ عدالت لگے گی، نہ کسی کو سزا ہوگی۔ بقول شاعر

مانا کہ مشت خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں

لیکن ہوا کے رحم و کرم پر نہیں ہوں میں

چہرے پہ مل رہا ہوں سیاہی نصیب کی

آئینہ ہاتھ میں ہے سکندر نہیں ہوں میں

وہ لہر ہوں جو پیاس بجھائے زمین کی

چمکے جو آسماں پہ وہ پتھر نہیں ہوں میں

ضلع کرم میں تین ماہ سے جاری بد امنی میں

ضلع کرم میں تین ماہ سے جاری بد امنی میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 160 سے زیادہ افراد جاں بحق جبکہ 220 سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔ ادویات اور غذائی قلت سے 29 کم عمر بچوں کی اموات بھی رپورٹ ہوئی ہے۔جس دوران کرم میں لڑائی زوروں پر تھی صوبائی حکومت اپنی تمام تر انتظامی طاقت اور صوبائی وسائل سمیت اسلام آباد پر حملہ آور ہو رہی تھی۔ صوبائی حکومت کو اب بھی اسلام آباد میں پر تشدد احتجاج کے دوران اپنے بارہ کارکنوں کی ہلاکت کی غم کھائے جا رہی ہے ان کیلئے صوبائی خزانے سے ایک کروڑ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا گیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا کرم کے یہ 160 شہید اور 220 زخمی کسی اور ملک کے باشندے تھے کیا ان کے پسماندگان امداد کے مستحق نہیں۔ دوسری بات یہ کہ پی ٹی آئی اور وفاق کے درمیان مذاکرات میں پی ٹی آئی کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ چھبیس نومبر واقعہ کی عدالتی تحقیقات کی جائے۔ کیا صوبائی حکومت جرات کرکے کرم واقعات کیلئے بھی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے سکتی ہے۔ نو صفحات پر مشتمل امن معاہدے پر نظر دوڑائی تو اس میں ایک جملہ ایسا نہیں کہ جن لوگوں نے تین مہینے تک حکومتی رٹ چیلینج کی، سینکڑوں افراد کو ہلاک و زخمی کیا، املاک کو تباہ و برباد کیا۔ ان کے خلاف کیا کارروائی ہوگی۔ داناوں کا قول ہے کہ امن کیلئے طاقت ضروری ہے اگر حکومت طاقتور ہے تو ان کو ریاستی طاقت کے ذریعے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور امن قائم کرنے کے لئے سامنے آنا چاہیے تھا۔ مگر افسوس کہ وہ ایسا نہ کرسکی۔

صوبائی حکومت نے آج یعنی ہفتہ کے روز خوراکی اشیاٗ اور ادویات وغیرہ پر مشتمل قافلہ پارہ چنار بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ ابھی ابھی اطلاع ملی کہ اس قافلے کیلئے راستہ کھولنے کیلئے جانے والے ڈپٹی کمیشنر کرم سمیت انتظامی افسران و سیکویرٹی اہلکاروں پر بگن کے مقام پر شدید فائرنگ ہوئی ہے جس میں متعدد افراد زخمی ہے۔ حکومت کی ناکامی کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت درکار ہے۔۔ اللہ مزید خیر فرمائے۔ آمین

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *