Connect with us

سیاست

اقوام متحدہ: کالعدم ٹی ٹی پی خطے کے لیے سنگین خطرہ، افغان طالبان کی معاونت حاصل

Published

on


اقوام متحدہ نے جنوبی اور وسطی ایشیا میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بڑھتے ہوئے خطرے کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ ڈنمارک کی نائب مستقل مندوب اور سلامتی کونسل کمیٹی کی سربراہ ایمبیسیڈر سینڈرا جینسن لانڈی نے سلامتی کونسل کو رپورٹ پیش کی، جس میں ٹی ٹی پی کی پاکستان میں متعدد ہائی پروفائل حملوں میں شمولیت کا ذکر کیا گیا، جن میں بعض میں جانی نقصان بھی ہوا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان کی طالبان حکومت کی طرف سے ’’لازمی اور خاطر خواہ‘‘ مالی اور لاجسٹک مدد حاصل ہے، جس نے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کو مزید تقویت دی ہے۔ تخمینہ کے مطابق، ٹی ٹی پی کے پاس 6 ہزار جنگجو ہیں، جو اسے خطے کے لیے سنگین خطرہ بناتے ہیں۔

سینڈرا جینسن نے داعش، القاعدہ اور دیگر علاقائی دہشت گرد نیٹ ورکس کے بڑھتے خطرات سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور وسطی ایشیا کے درمیان غیر ملکی دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت تشویش کا باعث ہے۔

پاکستان کے نائب مستقل مندوب اقوام متحدہ عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے میں فرنٹ لائن سٹیٹ ہے اور اس نے 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی اور اربوں ڈالر کا اقتصادی نقصان برداشت کیا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *