سیاست
ایران کا امریکا کو دوٹوک جواب, جو کرنا ہے کر لو
ایرانی صدر مسعود پزشکیاں نے امریکی دباؤ میں مذاکرات کرنے سے انکار کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوٹوک جواب دے دیا، “جو کرنا ہے کر لو۔” ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ایران کسی دھمکی کے تحت مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بھی امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ تہران کسی دھونس میں نہیں آئے گا۔ دوسری جانب، ایران کی یورینیم افزودگی میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے خبردار کیا ہے کہ ایران 60% تک افزودگی کر چکا ہے، جو 90% ہتھیاروں کے معیار کے قریب ہے۔
یہ جوہری تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کر کے سخت اقتصادی پابندیاں بحال کر دیں۔ امریکا کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کے جواب میں ایران مزید سخت مؤقف اختیار کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
