سیاست
ایک گہرا جائزہ
تحریر : علی آفریدی
پاکستان میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، اور اس حوالے سے مختلف بین الاقوامی ادارے بھی اپنی رپورٹس پیش کر رہے ہیں۔ ورلڈ بینک نے حال ہی میں پاکستان کے عدالتی نظام اور انتظامی ڈھانچے کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شفاف حکومتی طریقوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ گزشتہ ہفتے ورلڈ بینک کی ٹیم نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی اور ساتھ ہی ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بھی اپنی رپورٹ جاری کی، جس میں پاکستان میں بدعنوانی کی نشاندہی کی گئی اور شفافیت کے حوالے سے ملک کی درجہ بندی کو کم کر دیا گیا۔
بین الاقوامی فنانس کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر مختار ڈیوپ نے ایک پاکستانی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر سیاسی اور میکرو اکنامک استحکام کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، اگر پاکستان انتظامی اور مالیاتی شعبوں میں اصلاحات لاتا ہے، تو اس کے نتائج طویل المدتی ترقی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ آئی ایف سی زراعت، کارپوریٹ فارمنگ اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ معیشت کو ایک نئی سمت دی جا سکے۔
دوسری طرف، پاکستان میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کے درمیان کئی مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں، جس کے باعث سیاسی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی نہیں، خیبر پختونخوا کے شہروں اور سابقہ قبائلی علاقوں میں حالات مزید بگڑ چکے ہیں، جہاں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں حکومتی رٹ کو چیلنج کر رہی ہیں۔ ان علاقوں میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور دہشت گردوں کے ساتھ حکومت کا مقابلہ مشکل ہوگیا ہے۔
بلوچستان کی صورتحال بھی غیر تسلی بخش ہے، جہاں حالیہ ہفتوں میں دہشت گردوں نے کان کنوں کو نشانہ بنایا اور صوبے کے مختلف علاقوں میں بدامنی بڑھ رہی ہے۔ خضدار میں ایک خاتون کو اغوا کر لیا گیا، اور بعد میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں شامل افراد نے حکومت سے فوری کارروائی کی درخواست کی۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر چکا ہے، اور اس کے خلاف احتجاج جاری ہیں۔
مکران ڈویژن میں بڑھتے ہوئے فائرنگ کے واقعات اور پولیس کی کارروائیاں حالات کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ سیاسی کشیدگی، بدامنی اور دہشت گردی کی وجہ سے بلوچستان اور دیگر علاقوں میں امن قائم کرنے کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔ ایک طرف وفاقی حکومت سی پیک کو اقتصادی ترقی کا نیا ذریعہ قرار دیتی ہے، لیکن بلوچستان میں جاری بدامنی اور اہم شاہراہوں کی بندش نے اس خواب کو چیلنج کر دیا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے تاکہ معاشی ترقی کے راستے کھل سکیں۔ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا، اقتصادی ترقی صرف ایک خواب کی طرح رہے گا۔ حکومت کو فوری طور پر اصلاحات کی طرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی حالات بہتر ہو سکیں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ بھی بہتر ہو۔
