سیاست
پاکستان ایک بہترین میزبان
تحریر : ارم نیاز
یہ سنہ 1979 کی بات ہے جب جنگ افغانستان کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ افغان عوام کیلئے ایک ایسی صورتحال پیدا ہوئی جہاں پیچھے آگ کا دریا تھا اور آگے کا کوئی راستہ دکھائی نہ دیتا تھا۔ بے سر و سامانی کے عالم میں نکلنے والے افغان مہاجرین پر تمام دنیا نے اپنے دروازے بند کر دیے۔
جنگ میں گھرے اور مصائب سے دوچار افغان مہاجرین کے احساسات کو پاکستان نے محسوس کیا اور نا صرف اپنے افغان بھائیوں کو کشادہ دل سے تسلیم کیا بلکہ زندگی کی ہر وہ سہولت مہیا کی جو ایک عام پاکستانی کو میسر تھیں۔ پاکستان کی جانب سے فراخدلی کا مظاہرہ کرنے پر 20% سے زائد مہاجرین بےسر و سامانی کی حالت میں پاکستان پہنچے۔ پاکستان نے اسلامی روایات و اقدار کا پاس رکھتے ہوئے اپنے مہمانوں کی رہائش کیلئے 340 مہاجر کیمپس قائم کیے۔ ان کیمپس میں جلوزئی کیمپ، پنہیاں مہاجر کیمپ اور کوٹ چندانہ مہاجر کیمپ قابل ذکر ہیں۔
اکتوبر 2023 میں اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق تقریباً 3.7 ملین افغان پاکستان میں مقیم ہیں، جبکہ پاکستانی حکام کے مطابق یہ تعداد قریباً 4.4 ملین ہے جن میں سے صرف چند افراد کے پاس مطلوبہ دستاویزات ہیں جو انہیں پاکستان میں قانونی طور پر رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔
افغانستان میں جنگ ختم اور ایک مستحکم حکومت قائم ہو جانے کے بعد سن 2022 میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو اپنے وطن واپس لوٹ جانے کیلئے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دی گئی۔ پاکستان سے غیر قانونی غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل یکم ستمبر سے شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔ رواں سال یکم جنوری تک چار لاکھ 55 ہزار افغان باشندے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔
نومبر 2024 میں تقریباً 126,000 مزید افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں جبکہ دس لاکھ سے زائد اب بھی پاکستان میں مقیم ہیں جنکی واپسی وقت مقررہ تک ناممکن ہے۔
حکومت پاکستان نے 31 دسمبر 2024 کے بعد اسلام آباد میں مقیم تمام افغان شہریوں کے لیے این او سی کو لازمی قرار دینے کے اعلان کیا تھا۔ حکومت پہلے فیز میں غیر رجسٹرڈ اور دوسرے فیز میں رجسٹرڈ مہاجرین کی واپسی کے عمل کو یقینی بنائے گی۔
غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغان مہاجرین اور غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے سلسلے پر کچھ شر پسندوں نے ایک پروپیگنڈہ کے تحت نفرت کی خلیج حائل کرنے کی کوشش کی تاہم وطن واپسی کے موقع پر افغان شہریوں نے پاکستان میں گزارے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ جاری ہے کہ پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کے ساتھ بُرا سلوک کیا جا رہا ہے، اس میں کوئی صداقت نہیں۔ الحمداللہ ابھی تک ہمیں بہت عزت سے رکھا گیا اور جو افغان باشندے غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم تھے ان کو پروٹوکول کے ساتھ بھیجا جا رہا ہے۔چالیس برس دیار غیر (پاکستان) میں گزارنے کے بعد وطن واپس جانے والے افغان مہاجرین نے پاکستان کی میزبانی پر نہ صرف پاکستان کا بھرپور شکریہ ادا کیا بلکہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے واپس آنے کا عندیہ اس یقین دہانی کے ساتھ دیا کہ وہ قانونی طور پر پاکستان میں قیام کریں گے۔
