سیاست
میں کسی یزید کے کہنے پر تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا, عمران خان کا پیغام
چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے جیل سے پارٹی رہنماؤں اور وکلاء سے ملاقات کے دوران ایک سخت اور دوٹوک پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں کہا گیا کہ وہ 3 سال کے لیے پیچھے ہٹ جائیں اور 26ویں آئینی ترمیم کو قبول کر لیں، لیکن انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ “میں کسی یزید کے کہنے پر 3 منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔”
عمران خان نے واضح کیا کہ 9 مئی کے حوالے سے معافی کا مطالبہ کرنے والے خود ان مظالم کے مرتکب ہیں جنہوں نے خواتین کی عزت پامال کی، گھروں کا تقدس توڑا، اور ہزاروں بے گناہ افراد کو جیلوں میں ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ ان مقدمات کی اگر ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو جائے تو یہ سب جھوٹے مقدمات ختم ہو جائیں گے۔
انہوں نے اہلیہ بشریٰ بی بی کی قید تنہائی، ڈاکٹر یاسمین راشد کی گرفتاری، اور اپنی بہنوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب قانون کے نام پر ظلم ہے۔ عمران خان نے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 26ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو مکمل طور پر بے بس کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں اور ووٹ کے ذریعے اس نظام ظلم کا خاتمہ کریں۔ “جنگ ہمیشہ باہر والوں سے ہوتی ہے، اپنے لوگوں کو نشانہ نہ بنائیں” عمران خان نے پارٹی کارکنان کو پیغام دیتے ہوئے کہا۔ انہوں نے متحرک نہ ہونے والے عہدیداران کو ہٹانے کی ہدایت بھی دی۔
