سیاست
بلاول بھٹو کی دہشت گردی کے بڑھتے خطرے پر وارننگ، قومی اتحاد پر زور
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی طاقتیں اور پاکستان کے دشمن اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں جافر ایکسپریس حملے پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے دہشت گردی کی شدید مذمت کی اور اس کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو یاد دلایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ، محترمہ بے نظیر بھٹو، دہشت گردی کا نشانہ بنیں اور خود ان کے اغوا کی کوشش بھی کی گئی تھی۔
بلاول نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے ذریعے دہشت گردی کو کمزور کیا تھا، لیکن بدقسمتی سے اب یہ شدت پسندی دوبارہ زور پکڑ رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک ایک خطرناک دور سے گزر رہا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ غیر ملکی عناصر دہشت گرد گروہوں کی مالی مدد کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جا سکے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں۔ بلاول نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی نظریہ نہیں، وہ صرف خوف پھیلانا اور پاکستان کی ترقی کو روکنا چاہتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات کو بھلا کر دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں۔ “اگر ہم اب بھی نہ سنبھلے تو دشمن اپنی چالوں میں کامیاب ہو جائے گا،” انہوں نے خبردار کیا۔
