اہم خبریں
پاکستان نے بھارت کی سندھ طاس معاہدہ معطلی کا جائزہ شروع کر دیا، حتمی فیصلہ وزیر اعظم کریں گے
پاکستان کے سندھ طاس کمیشن نے بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اقدام کا باضابطہ جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ وزارت خارجہ، وزارت آبی وسائل اور سندھ طاس کمیشن کے ماہرین صورتحال کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک تھنک ٹینک تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں قانونی اور سفارتی ماہرین شامل ہوں گے۔ یہ تھنک ٹینک اپنی سفارشات کابینہ کو پیش کرے گا، جس کی بنیاد پر وزیر اعظم حتمی حکمت عملی کا تعین کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت پاکستان کی قانونی اور آئینی پوزیشن بھارت سے زیادہ مضبوط ہے، کیونکہ بھارت کا معاہدے کی معطلی کا یکطرفہ فیصلہ عالمی سطح پر چیلنج ہو سکتا ہے۔
پاکستان عالمی بینک اور اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں سے رجوع کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔ جلد ہی قانونی ماہرین کی رپورٹ پیش کی جائے گی جو آئندہ کے سفارتی اقدامات کا راستہ ہموار کرے گی۔
سابق ایڈیشنل انڈس واٹر کمشنر شیراز میمن نے سما ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت فوری طور پر پاکستان کا پانی بند نہیں کر سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ویانا کنونشن کے تحت معاہدے کو معطل تو کیا جا سکتا ہے لیکن مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، اور اگر بھارت ایسا کرنے کی کوشش بھی کرے تو ضروری ڈھانچہ تعمیر کرنے میں تقریباً 15 سال لگ سکتے ہیں۔
سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 میں طے پایا تھا، دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کو یقینی بناتا ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ دونوں ممالک، بالخصوص پاکستان کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
