تجارت
طورخم تجارتی گزرگاہ 25 ویں روز بھی بند، دوطرفہ تجارت مکمل طور پر معطل
طورخم تجارتی گزرگاہ دوطرفہ تجارت کے لیے آج 25 ویں روز بھی بند ہے۔
کسٹمز ذرائع کے مطابق، تجارتی گزرگاہ کی بندش کے باعث کارگو گاڑیوں کی لمبی قطاریں بدستور قائم ہیں، جبکہ امپورٹ، ایکسپورٹ اور ٹرانزٹ ٹریڈ کی ہزاروں گاڑیاں مختلف مقامات پر پھنس چکی ہیں۔
حکام کے مطابق پاکستان افغانستان کو سیمنٹ، ادویات، کپڑا، تازہ پھل اور سبزیاں برآمد کرتا ہے، جب کہ افغانستان سے کوئلہ، سوپ اسٹون اور خشک میوہ جات درآمد کیے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق طورخم سرحد سے یومیہ اوسطاً 85 کروڑ روپے کی دوطرفہ تجارت ہوتی ہے، جس میں 58 کروڑ روپے کی ایکسپورٹ اور 25 کروڑ روپے کی درآمد شامل ہے۔ پاکستانی خزانے کو اس تجارت سے روزانہ تقریباً 5 کروڑ روپے حاصل ہوتے ہیں، جو اب مکمل طور پر رک چکے ہیں۔
امیگریشن ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی مرحلہ وار ملک بدری جاری ہے اور اس مقصد کے لیے طورخم سرحد کو تین روز قبل افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے کھولا گیا تھا۔ تاہم، تجارتی سرگرمیاں تاحال معطل ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تاجروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
