تجارت
اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ مسلسل چوتھی بار 11 فیصد پر برقرار رکھا
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد کی موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق، پالیسی ریٹ مسلسل چوتھی بار — جولائی، اگست، ستمبر اور اکتوبر 2025 کے اجلاسوں میں — 11 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔
یاد رہے کہ مئی 2025 میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کمی کر کے اسے 11 فیصد مقرر کیا تھا۔ اس کے بعد اسٹیٹ بینک نے افراطِ زر کے رجحان اور معاشی استحکام کے باعث شرح سود میں مزید تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ معاشی توازن برقرار رکھنے اور مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ صنعتی سرگرمیوں میں بحالی کے لیے بہتر ماحول پیدا ہو سکے۔
اگلا مانیٹری پالیسی جائزہ دسمبر 2025 میں متوقع ہے، جہاں افراطِ زر اور شرح نمو کے تازہ اعداد و شمار کی روشنی میں نئی حکمتِ عملی طے کی جائے گی۔
