تجارت
حکومت نے شمسی توانائی کے فروغ کے لیے نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی تیار کر لی
وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور ایک ماہ کے اندر وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد جاری کر دی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں توانائی سے متعلق ورکشاپ میں بتایا کہ اس پالیسی کا مقصد متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا اور بجلی کے نرخوں میں کمی لانا ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ پانی کی کمی کے باعث مہنگے ایندھن سے بجلی پیدا کرنے پر اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، تاہم مجموعی طور پر بجلی کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زراعت اور صنعت میں شمسی توانائی کی جانب بڑا رجحان آیا ہے اور صنعتی ٹیرف میں ایک سال کے دوران 30 فیصد کمی کی گئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 3,000 میگاواٹ فرنس آئل پر مبنی بجلی گھروں کو سسٹم سے نکالا گیا ہے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو اور ماحول کو تحفظ ملے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین سالوں میں بجلی کی طلب میں کمی کے باعث 7,000 میگاواٹ کا اضافی بجلی موجود ہے، جس کی بدولت مقابلے پر مبنی بجلی مارکیٹ بنانے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔
آنے والی نیٹ میٹرنگ پالیسی سے گھریلو اور تجارتی صارفین کو شمسی توانائی کے نظام سے نیشنل گرڈ میں بجلی شامل کرنے کے نئے اصولوں کا تعین ہوگا۔
