اہم خبریں
عنوان: ٹرمپ حکومت نے 27 ہزار بھوکے بچوں کا کھانا کیوں جلا دیا؟ امریکی سینیٹر کا سخت سوال
امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے اجلاس میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب ڈیموکریٹک سینیٹر ٹم کین نے سابق ٹرمپ انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے پوچھا کہ بھوکے بچوں کے لیے خریدی گئی 500 میٹرک ٹن خوراک کو کیوں جلا دیا گیا؟
یہ خوراک یو ایس ایڈ کے تحت دبئی میں ذخیرہ کی گئی تھی، اور اس کی معیاد جولائی میں ختم ہونی تھی۔ مارچ میں وارننگ ملنے کے باوجود اسے ضرورت مند بچوں میں تقسیم کرنے کی بجائے نذرِ آتش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سینیٹر ٹم کین نے نائب وزیر برائے مینجمنٹ و ریسورسز مائیکل ریگاس سے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ آخر یہ فیصلہ کن بنیادوں پر کیا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ خوراک امریکی عوام کے ٹیکسوں سے خریدی گئی تھی اور 27 ہزار بچوں کی ایک ماہ کی ضروریات پوری کر سکتی تھی۔
نائب وزیر ریگاس اس معاملے پر کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے، اور محض اتنا کہا کہ وہ بعد میں معاملے پر غور کریں گے، جس پر سینیٹر کین نے انہیں غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
