Connect with us

سیاست

ماہ رمضان میں ابلیس قید لیکن خوارج آزاد

Published

on

اسلامی کلینڈر کا سب سے روشن اور برکتوں والا مہینہ جس کا سب کو پورا سال بے صبری سے انتظار رہتا ہے وہ رمضان ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ جس میں لوگ زیادہ سے زیادہ برکتیں سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے روٹھے بچھڑوں کو مناتے ہیں۔ محبت اور خوشیاں بانٹتے ہیں تاکہ دین اسلام کا ایک روشن اور مثبت چہرہ دنیا کو دکھایا جائے۔۔

عرصہ دراز سے پوری دنیا میں اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ کہیں مسلمانوں کو دہشتگرد گردانا گیا تو کہیں انتہا پسند۔ مسلم ممالک کی فہرست میں پاکستان سر فہرست رہا۔

کئی برسوں بعد پاکستان میں سیکیورٹی فورسز کی کاوشوں اور قربانیوں کے بعد پاکستان پر لگا دہشتگردی کا لیبل اترا اور پاکستان کی رونقیں بحال ہوئی۔ لیکن پاک مخالف قوتوں کو یہ برداشت نہ ہوا۔ پاکستان کے اندر موجود کالی بھیڑوں نے ایک بار پھر پاکستان کا امن داؤ پر لگانے کی ٹھانی اور متحرک ہوئے۔ کبھی پارا چنار تو کبھی بلوچستان اور اب بنوں۔

رمضان کے پہلے عشرے میں بنوں کینٹ پر دہشتگردوں نے خود کُش حملہ کیا اور خون کی ہولی کھیل کر اپنے آقاؤں کو راضی کرنے کی کوشش کی۔

ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ مسجد کو بھی نہ بخشا۔ خود کُش حملوں میں دھماکے کی وجہ کینٹ سے ملحقہ مسجد کی چھت گر گئی۔ مسجد میں نمازی اپنے رب کی عبادت میں مصروف تھے، دھماکے کیوجہ سے کئی نمازی ملبے تلے دب گئے۔

 یہ حملہ انسانیت پر حملہ تھا ۔ دھماکے اتنے شدید تھے کہ انکی آواز سے قریبی عمارتیں لرز اٹھیں، گھروں کی دیواریں اور چھتیں منہدم ہو گئیں۔ دو خواتین اور چار معصوم بچے اس سفاکیت کی نذر ہو گئے۔

خودکش دھماکوں کے بعد دہشت گردوں نے کینٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بناتے ہوئے خوارج کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے اور سب دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا۔

رقص ابلیس میں مشغول خوراج نے رمضان میں خون کی ہولی کھیل کر اور معصوموں کا قتلِ عام کر کے ثابت کیا ہے کہ انکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ کون سا جہاد ہے جہاں نمازیوں اور بچوں کا خون بہایا جاتا ہے؟؟ خوارج کس دین کے پیروکار ہیں جو سجدے میں جھکے بندوں پر حملہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے؟ ماہِ رمضان میں افطار کے دوران قتلِ عام کی اجازت کون سا دین دیتا ہے؟

یہ اسلام ہرگز نہیں ہے، یہ فتنہ خوارج کی بربریت ہے، جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *