Connect with us

ٹاپ اسٹوریز

بنکرز کی مسماری پُرامن کرم کی جانب پہلا قدم

Published

on

تحریر : ارم نیاز

ماضی کا دریچہ کھول کر کرم-پارا چنار میں جھانکیں تو خون و بارود کی بو نے اس خوبصورت علاقے کو دھندلا کر رکھا ہے۔ اسلام کے دو بڑے مسالک کا مرکز کیوں کر اس حال کو پہنچا یہ ایک طویل بحث ہے لیکن اس کا لب لباب یہ ہے کہ کوئی تیسری قوت موجود ہے جو مسلمان کو مسلمان سے لڑوانے کے در پر ہے، جس کو لاشوں کو دیکھ کر تسکین اور خون کو دکھ کر سکون ملتا ہے۔ لاشوں پر رقص ابلیس کرنے والی اس قوت نے ہمیشہ مسلمان کو مسلمان کے مدمقابل کیا۔ زمینی تنازعات کو وجہ بنا کر خونی فسادات میں قتل و خونریزی ک بازار کئی عرصہ تک گرم رہا۔
گزشتہ برس کُرم میں فرقہ وارانہ فسادات میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ کشیدگی کے باعث کُرم کے صدر مقام پاڑہ چنار جانے والی رابطہ سڑکیں بند کر دی گئیں۔ سڑکوں کی بندش کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ علاقہ مکینوں کو ادویات، خوراک اور اشیائے ضرورت کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔
اس نازک صورتحال میں جب سارا ملک پریشان دکھائی دے رہا تھا تو سنی علما کونسل پاکستان نے کرم میں بلاتفریق آپریشن کا مطالبہ کر دیا۔ مطالبے کی رو سے علاقے کو اسلحے سے پاک کرنا مقصود تھا۔ بصورت دیگر مجرموں کو کٹہرے میں نہ لانے پر پورے ملک میں احتجاج کرنے کا عندیہ دیا گیا۔
صورتحال سے نمٹنے کیلئےخیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف کی سربراہی میں ایک جرگہ تشکیل دیا جس کی اب تک کئی نشستیں ہو چکی ہیں۔ جرگے میں فریقین کے مابین مبینہ طور پر طے پا جانے والے معاہدے میں 14 نکات شامل ہیں۔
اس مجوزہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ مری معاہدہ 2008 بشمول سابقہ تمام علاقائی و اجتماعی معاہدات، کاغذات مال، فیصلہ جات اور روایات اپنی جگہ برقرار و بحال رہیں گے جن پر ضلع کرم کے تمام مشران متفق ہیں۔

معائدے کے تحت حکومت سرکاری سڑک پر ہر قسم کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف سخت ایکشن لے گی۔ مزید براں ضلع کرم کے تمام بے دخل خاندانوں کو اپنے اپنے علاقوں میں آباد کیا جائے گا جبکہ ان کی آبادکاری میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔

معائدے کی رو سے اسلحہ کے آزادانہ نمائش و استعمال پر مکمل پابندی ہو گی اور اسلحہ خریدنے کے لیے چندہ جمع کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ جبکہ فریقین تمام بھاری اسلحہ ایک مہینے کے اندر اندر ضلعی پولیس کے پاس جمع کروانے کے پابند ہوں گے۔
امن معائدے کے تحت ، دونوں فریقین رضاکارانہ طور پے اسلحہ جمع کروانے اور قومی بنکرز توڑنے پر رضامندی کا اظہار کر چکے ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بنکرز کی مسماری کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق علاقے میں 250 سے زائد بنکرز موجود ہیں جن میں سے اب تک 130 کے لگ بھگ بنکرز مسمار کیے جا چکے ہیں جبکہ سامان رسد کی کم و بیش 853 گاڑیاں بحفاظت منزل مقصود پر پہنچ چکی ہیں۔
مقامی افراد ان اقدامات سے کافی خوش دکھائی دیتے ہیں اور بنکرز کی مسماری پر ضلعی انتظامیہ کو سراہتے ہیں۔ دیرپا امن کیلئے ضروری ہے کہ عوام بھی ضلعی انتظامیہ سمیت سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دے اور شرپسندوں کی حوصلہ شکنی کرے۔
عوام کی کثیر تعداد سوشل میڈیا پر متحرک دکھائی دیتی ہے۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہر شخص ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کرے جو نفرت پھیلانے کا موجب بنے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *