Connect with us

ٹاپ اسٹوریز

بارود اور عورت

Published

on

تحریر : علی آفریدی

پاکستان میں حالیہ برسوں میں خواتین کی جانب سے خودکش حملوں میں اضافہ ایک تشویشناک رجحان ہے، جو نہ صرف سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس کے سماجی و نفسیاتی پہلو بھی گہرے ہیں۔ 3 مارچ کو بلوچستان کے ضلع قلات میں ایک خاتون نے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے قافلے پر خودکش حملہ کیا، جس میں ایک اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ گزشتہ ایک سال میں بلوچستان میں یہ دوسرا واقعہ تھا، اس سے قبل لسبیلہ میں ماحل بلوچ نے حملہ کیا تھا۔ کراچی کے چینی انسٹی ٹیوٹ میں شاری بلوچ کے حملے کو شامل کرنے سے بلوچستان کی خواتین حملہ آوروں کی تعداد تین ہو جاتی ہے۔

حالیہ حملہ آور خاتون کی تصویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، تاہم ان کی شناخت، پس منظر اور تعلیمی معلومات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ سابقہ دو حملہ آور، شاری بلوچ اور ماحل بلوچ، تعلیم یافتہ گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ پہلو اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے کہ تعلیم یافتہ خواتین بھی اس انتہا پسندی کی راہ پر کیوں گامزن ہو رہی ہیں؟ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قلات حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جبکہ اس سے قبل بی ایل اے اور دیگر بلوچ عسکری تنظیمیں جیسے بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی (یو بی اے) بھی مختلف حملوں میں ملوث رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں خواتین کو دباؤ، خاندانوں پر جبر یا پروپیگنڈے کے ذریعے شدت پسندی کی طرف مائل کر رہی ہیں۔ بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش خراسان نے بھی خواتین کو شدت پسندی کے لیے استعمال کیا ہے۔

بلوچستان میں شدت پسندی کی ایک اور بڑی وجہ بیرونی طاقتوں کی ممکنہ مداخلت بھی ہو سکتی ہے، جس کا اشارہ پاکستانی حکام کئی بار دے چکے ہیں۔ کیا خواتین کی شمولیت میں بیرونی پروپیگنڈے یا انٹیلی جنس نیٹ ورکس کا بھی کوئی کردار ہے؟ اس پہلو پر مزید تحقیق اور سیکیورٹی اداروں کی رپورٹنگ ضروری ہے تاکہ شدت پسندی کے عوامل کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ شاری بلوچ اور ماحل بلوچ کے کیسز میں یہ دیکھنے کو ملا کہ وہ تعلیم یافتہ اور باشعور خواتین تھیں، لیکن پھر بھی وہ اس راستے پر چل پڑیں۔ اس کے پیچھے ممکنہ وجوہات میں سیاسی اور سماجی محرومی، معاشی بدحالی، ریاستی جبر اور لاپتہ افراد کا مسئلہ شامل ہو سکتے ہیں۔ بلوچ عوام کو شکایت ہے کہ انہیں ریاستی فیصلوں میں نظرانداز کیا جاتا ہے، جبکہ بےروزگاری اور غربت کی شدت سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔ علیحدگی پسند حلقے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے لوگ زبردستی لاپتہ کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نوجوان اور خواتین شدت پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب عسکری تنظیمیں پروپیگنڈے کے ذریعے خواتین کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو رہی ہیں کہ مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔

ریاست کو چاہیے کہ وہ خواتین شدت پسندی کے اس نئے خطرناک رجحان کو روکنے کے لیے سیاسی مکالمہ شروع کرے اور بلوچ قوم پرست رہنماؤں، خاص طور پر مہرانگ بلوچ جیسی شخصیات سے مذاکرات کرے تاکہ مسائل کا سیاسی حل نکالا جا سکے۔ بلوچستان میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف جانے سے روکا جا سکے، جبکہ سیکیورٹی ادارے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور عوام کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کریں تاکہ غلط فہمیاں کم ہوں۔ شدت پسندی کے خلاف تعلیمی اور سوشل میڈیا مہم بھی چلائی جانی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو اس راستے پر جانے سے روکا جا سکے۔ ساتھ ہی پاکستان کو سفارتی سطح پر بھی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ بلوچستان میں کسی بیرونی قوت کی مداخلت نہ ہو۔

خواتین کی جانب سے خودکش حملوں میں اضافے کو محض سیکیورٹی چیلنج کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس کے پیچھے چھپے محرکات کو سمجھنا اور ان کا سدباب کرنا بھی ضروری ہے۔ بلوچستان اور دیگر علاقوں میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، جس میں سیاسی، سماجی، تعلیمی اور معاشی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ رجحان مزید سنگین ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے ہمیں انسانی سطح پر رابطہ قائم کرنا ہوگا، تاکہ انتہا پسندی کے پس پردہ حقیقی وجوہات کو سمجھ کر دیرپا امن کی طرف بڑھا جا سکے۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو اس کے نتائج پورے معاشرے کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *